سمارٹ فونز کا استعمال بچوں کی تعلیمی سر گرمیوں میں بڑی رکاوٹ

اردو پوائنٹ تازہ ترین ۔
جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے موبائل فونز کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے جسکا اثر اب سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلباء پر ہورہا ہے۔موبائل فون کی جدید ٹیکنالوجی میں جس قدر سوشل میڈیا ایپلیکیشن اور چیٹ ایفلکیشن کی بھرمار ہے اور نوجوان طلباء و طالبات اپنا بیشتر وقت دوستوں کیساتھ پیس بک، ٹویٹراوردیگرسوشل میڈیا ویب سائٹس پر برباد کررہے ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق کروڑوں کی تعداد میں پاکستانی موبائل فونز کا استعمال کرتے ہیں جن میں اکثریت نوجوان نسل کی ہے اور زیادہ تر نوجوان موبائل فون کا استعمال منفی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر کررہے ہیں ۔ اگر موبائل فون کے استعمال کو طلباء اسی طرح کرتے رہے تو آئندہ چند سالوں میں پاکستان میں تعلیم کا معیار خطرناک حد تک متاثر ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ چونکہ انٹرنیٹ پر ہر قسم تعلیمی مواد مل جاتا ہے، طلباء میں نقل کا اجحان بذریعہ موبائل بڑھ سکتا ہے، بلکہ بڑھ چکا ہے اور تو اور بعض طلباء تو امتحانی ہال میں موبائل فون کو ساتھ لے جانا اور استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور اسی طرح نقل کرنے کو بھی اپنا حق سمجھتے ہیں اور اکثر ہم میڈیا پر دیکھتے ہیں کہ کچھ طلباء امتحان کے دوران امتحانی عملے کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر واویلا مچاتے ہیں کہ فلاں رکن یہ کررہا ہے اور فلاں وہ، لیکن اصل مسئلہ جو ان کو درپیش ہوتا ہے وہ ہوتا ہے نقل کی اجازت نہ دینا عملے کی جانب سے کیونکہ سارا سال صاحبان نے استعمال کیا ہوتا ہے موبائل تو زہن میں تو کچھ ہوتا نہیں اور انکا دارومدار ہوتا ہے نقل پر اور جب عملے کے ارکان یا رکن صاحبان کو نقل کرنے سے روکتے ہیں تو انکے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں ۔پاکستان کے تعلیمی اداروں میں آجکل جتنا نقل ہورہا ہے شاید ہی دُنیا کے کسی ملک یا علاقے میں ہو۔پاکستانی حکومت نے فیصلہ کرنا ہوگا کہ طلباء کیلئے کچھ ایسے کلاسز یا نصاب کا اہتمام کریں کہ وہ اپنے آپ کو اپنے مسقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تعلیمی سرگرمیوں میں دل سے حصہ لے اور فضول چیزوں اور انٹرنیٹ کے استعمال میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں ۔اسی طرح سکول، کالج اور یونیورسٹی میں موبائل فون کے استعمال اور ساتھ لے جانے پر سخت قوانین نافذ کردے کہ جس میں نقد جرمانہ کے علاوه جیل کی بھی سزا شامل ہو ۔
والدین کا رول!
والدین کا بھی طلباء کے اس روش پر چلنے میں بڑا ہاتھ ہے اور خصوصاََ مائیں بہنیں اپنے بچوں کو بےجا لاڈ پیار کے چکر میں خراب کردیتی ہیں اور انہیں پڑوسیوں اور خاندان کے بچوں کی طرح موبائل استعمال کرنے کا اجازت دے دیتی ہیں جسکی وجہ سے بچے اپنے تعلیم پر توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتے اور سارا دن موبائل میں مصروف ہونے کی وجہ سے تعلیمی کارکردگی متاثر ہوجاتی ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں سے عاجزانہ التجا ہے کہ خدارا اپنے بچوں پر نظر رکھیں کیونکہ مرد حضرات کاروباری تفکرات کی وجہ سے بچوں کو اتنا توجہ نہیں دے سکتے جتنا خواتین دے سکتی ہیں ۔اگر آج ہم اپنے بچوں پر نظر رکھ کر انکو کنٹرول کریں اور تعلیمی سرگرمیوں میں انکی مدد کریں تو انشاءاللہ انکی مسقبل شاندار ہوگی اور معاشرے میں مقام بھی حاصل ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں